ادارتی: ایڈوکیٹ فیض سید پر انڈیا ٹی وی کی مسلم مخالف رپورٹنگ

مصنف : افتخار اسلام

سلام اور مسلمانوں پر میڈیا کے حملے کے بارےمیں ہم سبھی صدیوں سے جانتے ہیں. اسلان میڈیا کے چیف ایڈیٹر اور محقق ، جورج ٹاؤن یونیورسٹی۔ ناتھن لین کے مطابق "میڈیا دنیا میں اسلامک فوبیا کو بڑھاوا دینے میں ایک مضبوط کردار ادا کرتا ہے۔" اور یہ 9/11 کے بعد بڑھ گیا، بھارت میں 2014 میں اپنی اونچائی پر پہنچ گیا۔اور کرونا وبا کے بعد اپنے حدود سے بہت ہی آگے بڑھ گیا۔ بھارتی میڈیا کے طرف سے دیئے گئے پیغام کا شکریہ، جسکے اثر کی وجہ سے ایک عالمی وباء نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمان بن گئ۔ اب بھارت میں کویڈ-19 غیر سرکاری طور پر مسلمان بن گیا ہے، جسکا اثر و رسوخ اتنا گہرا تھا کے عام لوگ مسلمانوں سے نفرت کرنے لگے، میڈیا کی دی گئی غلط جانکاری کی وجہ سے کویڈ-19 کو لے کر مسلمانوں پر ظلم و تشدّد کے کئی معاملے سامنے آئے۔

ہر چینل اسلامک فوبیہ پھیلانے کے دوڑ دھوپ میں لگا ہے، بھارتی میڈیا کی غیر اخلاقی جانکاری (رپورٹنگ) دن بدن بڑھتی ہی چلی گئی اور حد تو تب ہوئی جب  انڈیا ٹی وی اپنی تفتیش کو لے کر سامنے آئی کہ  "مسلمان، حکام اور رضاکار  پر تھوک کیوں رہے ہیں"۔ اُنہونے ایک اسلامک داعی ایڈوکیٹ فیض سعید کا پرانا ویڈیو کھوجا جو 25 اکتوبر 2017 کو یو ٹیوب پر پبلش ہوا تھا یعنی کویڈ-19 کے آنے کے دو سال پہلے، ظاہر سی بات ہے اس عالمی وباء کرونا کا اس ویڈیو سے کوئی بھی لینا دینا نہیں۔

Adv Faiz Syed India TV Iftikhar Islam Urdu

انڈیا ٹی وی بےنقاب

مندر جہ ذیل 6 نقاط کی بنا پر میں کہتا ہوں کہ انڈیا ٹی وی اسلامک فوبیا سے بھرا ہوا ہے اور رپورٹنگ صحیح نیّت سے نہیں کی گئی تھی۔

پہلا: داعی کا نام "مولانا فیض سعید" نہیں بلکہ "ایڈوکیٹ فیض سعید" ہے، انکی دس سالہ سرگرمیوں میں اُنھیں کہیں بھی مولانا کے نام سے مخاطب نہیں کیا گیا کبھی بھی نہیں۔ وہ ایڈوکیٹ فیض سعید کے نام سے ہی مشہور ہیں۔ اینکر نے کہا "یہ ہے فیض سعید، یہ ایڈوکیٹ بھی ہے اور مولانا بھی، مگر فیض سعید کوئی عام مولانا نہیں ہے یہ ایک اسلام کے داعی ہے۔" انڈیا ٹی وی نے مولانا لفظ پر اتنا زور دیا ہے کے اُنھیں ایک خاص مولانا کے روپ میں بدنام کرنا آسان ہوجائیگا۔ ایڈوکیٹ فیض سعید کوئی مولانا نہیں ہے، وہ ایک داعی ہے۔ ایک اسلام کا داعی مولانا ہونا ضروری نہیں ہے۔ جس نے یہ عظیم زبردست تفتیش کی ہے اُسے اس انسان کے بارےمیں بہت اچھی طرح سے تفتیش کرنا پڑا ہوگا، پھر کیوں جان بوجھ کر اُنکا سرکاری خطاب " ایڈوکیٹ" جو وہ استعمال کرتے ہیں اُسے چھوڑکر نیا نام"مولانا" اُن پر نافذ کیا جا رہا ہے، جو کہ صحیح نہیں ہے۔

دوسرا:
جب انڈیا ٹی وی تحقیقاتی صحافت کی مشق کرتا ہے، تو پھر اُنکے تحقیق کاروں نے ایڈوکیٹ فیض سعید کے نئے ویڈیو کی تحقیق کیوں نہیں کی؟ جو کے اُنکے چینل آئی آر سی ٹی وی پر آسانی سے مل جاتا۔ اُنہونے 3 اپریل 2020 کو کرونا وائرس پر ایک پورا ویڈیو اپلوڈ کیا ہے، جب کے انڈیا ٹی وی نے 11 اپریل 2020 کو اپنی رپورٹ دکھائی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کے پیش کرنے والے کے ارادے کیا ہیں، خود سے تحقیق کرنا سب سے بڑی ناکامی تھی ۔

تیسرا: ویڈیو کو جان بوجھ کر مضمون سے ہٹ کر لیا گیا ہے جو 25 اکتوبر 2017 کو یو ٹیوب پر پبلش کیا گیاتھا، 2 سال پہلے ، جسکا عالمی وباء سے کہیں بھی دور دور تک تعلّق نہیں ہو سکتا۔ جس طرح سے کلپ کو ڈراؤنی میوزک دے کر دکھایا گیا اور اُس پر اینکر نے ویڈیو کلپ کے بہانے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی اور کرونا وائرس پھیلانے کے طریقے بتانے لگا، جس سے انڈیا ٹی وی خود بخود بینقاب ہو گیا۔

چو تھا: ویڈیو میں ایڈوکیٹ فیض سعید کے اشاروں کو جان بوجھ کر ہٹایا گیا ہے تاکہ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ وہ اسلام کی ایک روایت کے بارےمیں سمجھا رہے تھے جہاں کوئی انسان کو شیطان عبادات کے وقت بہکاتا ہے دل میں وساوس پیدا کرتا ہے تو اُسے اپنے بائیں کاندھے کے جانب تین مرتبہ ہلکے سے تھوکنا چاہیئے۔ اشارے صاف صاف ظاہر کرتے ہیں کے انسان کو کیسے کرنا چاہیئے، اسلام کہیں پر بھی کسی دوسرے انسان پر تھوکنے کی تعلیم نہیں دیتا۔ پیغمبر محمد صلّی اللہ علیہ وسلم چھینکتے وقت بھی منہ پر ہاتھ رکھنے کی نصیحت دیتے ہیں۔ یہاں تک کے 25 فروری 2015 کو یو ٹیوب چینل پر ایک ویڈیو پبلش ہوا تھا اُس میں بھی یہ بتایا تھا۔ لیکن انڈیا ٹی وی یہ جاننے کی زحمت کیوں اٹھائے گی، جب وہ اپنے فائدے اور مطلب کا ویڈیو حاصل کر لیتے ہیں تو ایجنڈا سیٹ کر لیتے ہیں۔

پانچواں: انڈیا ٹی وی کی ریسرچ رپورٹ اتنی بكواس تھی کے حدیث کو کم سمجھنے والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کے انڈیا ٹی وی حدیثوں کے بارےمیں کچھ نہیں جانتی۔ اینکر نے کہا "حدِیش کی بک نمبر 29 ، چیپٹر 1 کی آیت 5613۔۔۔" اگر میں اینکر کا "حدیث" کی جگہ "حديش" غلط تلفظ کو نظر انداز بھی کروں تو ، آسان سا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کونسی حدیث کی بک؟ بہت سارے حدیث کی کتابیں ہیں جسے یہ 'تحقیقی جرنلسٹ' کا گروپ تحقیق کرنے میں نا کامیاب ہو گیا۔ انہونے کہاں سے حدیث کی کتاب میں 'آیت' نمبر ڈھونڈھ نکالی، حدیث کی کتابوں میں آیت نمبر نہیں ہوا کرتی۔ صاف صاف بات ہے یہ پوری طرح سے تحقیق کاروں کی کمی اور مسلمانوں کے خلاف انکی بدنیتی و ارادے کو ظاہر کرتا ہے، پوری کی پوری 'ایڈیٹر ٹیم' مسلمانوں کو گرانے اور نیچا دکھانے میں اتنی مگن ہے کے معمولی سی تحقیق میں بھی وہ لوگ نا کامیاب رہ گئے۔ 

چھٹا پوائنٹ: یہاں تک کے حدیث کی تشریح جاننے کے بعد انڈیا ٹی وی نے بعدمیں سمجھانے کی کوشش کی مگر جان بوجھ کر اسے دبا دیا، صحیح مضمون دکھانے کے بجائے انڈیا ٹی وی نے یہ پسند کیا کے ایڈوکیٹ فیض سعید پر حملے کیئے جائے اور مسلمانوں کو بری طرح سے بد نام کیا جائے۔

میرے مطابق یہ چھے نقاط ہیں، جہاں انڈیا ٹی وی اپنے اسلامفوبک ایجنڈے میں پوری طرح بے نقاب ہو گیا۔

زینب سکندر نے ٹھیک کہا "بھارت کی میڈیا جو ایک کام نہیں کر رہی ہے وہ ہے اخبار نویسی" ایک رپوٹر کا فرض ہوتا ہے کے وہ جیسا ہے ویسا ہی دیکھائے، نہ کے ایک ایجنڈے کے پیچھے کام کرے اور خاص ایک گروپ کے لوگوں کو نشانہ بنائے۔ یہ اچھے لوگوں کی خاموشی، اور نا اہل اور نا انصاف حکمرانوں کی حکمرانی کی وجہ سے ہی ہو رہا ہے۔ میڈیا ریاست کا پانچواں ستون ہے، جو ہمیشہ محاذ آرائی (opposition) کا کردار ادا کرتا ہے جو سرکار کے فیصلوں پر سوال اٹھاتا ہے اور دیش کی تعمیر میں مدد کرتا ہے۔


Read in English and Hindi

ادارتی: ایڈوکیٹ فیض سید پر انڈیا ٹی وی کی مسلم مخالف رپورٹنگ ادارتی: ایڈوکیٹ فیض سید پر انڈیا ٹی وی کی مسلم مخالف رپورٹنگ Reviewed by Iftikhar Office on Sunday, April 19, 2020 Rating: 5

No comments: